
میں اکثر یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہوں…
اور دل اندر سے ہل جاتا ہے۔
ہمارے خیبرپختونخواہ اور خاص طور پر قبائلی اضلاع میں جب گھر کا کمانے والا مرد بیمار ہوجاتا ہے، یا کسی وجہ سے کمانے کے قابل نہیں رہتا، تو ایک پورا گھر جیسے زمین پر آ گرتا ہے۔ وہ عورت جسے ساری عمر یہ کہہ کر تعلیم اور ہنر سے دور رکھا گیا کہ “یہ ہماری غیرت کا مسئلہ ہے”، وہی عورت حالات کے آگے بے بس کھڑی ہوتی ہے۔ نہ اس کے پاس ڈگری، نہ ہنر، نہ روزگار کا کوئی ذریعہ۔ اور پھر وہی خاندان جو کبھی باہر نکلنے کو عیب سمجھتا تھا، مجبوری میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
میں سوال کرتی ہوں — آخر کب تک؟
کب تک ہمارے گھر زکوٰۃ اور عطیات کے سہارے چلتے رہیں گے؟ کب تک ہماری بیٹیاں اس سوچ کی قیمت ادا کرتی رہیں گی کہ عورت کا گھر سے باہر نکلنا غیرت کے خلاف ہے؟ اگر غیرت کا مطلب کمزور رکھنا ہے تو پھر یہ کیسی غیرت ہے جو مشکل وقت میں ساتھ نہیں دیتی؟
میں نے اپنی آنکھوں سے ہزاروں مثالیں دیکھی ہیں۔ جب کسی خاتون کو سلائی کا ہنر ملتا ہے، جب وہ کڑھائی سیکھتی ہے، جب وہ چھوٹا سا کاروبار شروع کرتی ہے — تو اس کی آنکھوں میں خوف کی جگہ اعتماد آجاتا ہے۔ وہ دروازوں پر دستک دینے کے بجائے اپنے دروازے پر رزق لاتی ہے۔ یہی اصل عزت ہے۔ یہی اصل وقار ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا۔ روایتیں اپنی جگہ محترم ہیں، مگر روایت وہی اچھی ہے جو زندگی آسان کرے، مشکل نہ بنائے۔ اگر ہم آج اپنی بیٹیوں کو تعلیم اور ہنر نہیں دیں گے تو کل وہی بیٹیاں حالات کے سامنے بے بس کھڑی ہوں گی — اور تب ہمیں افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
میں بغاوت کی بات نہیں کر رہی، میں اصلاح کی بات کر رہی ہوں۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ ہمارے گھرانے محتاجی سے نکل کر خودداری کی طرف آئیں۔ ہماری خواتین حالات کا رونا نہ روئیں بلکہ حالات کا مقابلہ کریں۔ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں، اپنے بچوں کا سہارا بنیں، باعزت طریقے سے زندگی گزاریں۔
سوال اب بھی وہی ہے —
ہم کب سمجھیں گے؟
فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہم بیٹی کو بوجھ سمجھ کر کمزور رکھیں…
یا اسے مضبوط بنا کر اپنے گھر کی طاقت بنادیں





