قبائلی اضلاع میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف رضیہ محسود ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کا مؤثر اقدام

قبائلی اضلاع میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف رضیہ محسود ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کا مؤثر اقدام

قبائلی اضلاع میں خواتین کو درپیش مسائل، بالخصوص صنفی بنیاد پر تشدد، ایک سنجیدہ اور دیرینہ سماجی چیلنج ہے۔ ان مسائل کے تدارک اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے رضیہ محسود ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن (RMDF) نے ہمیشہ ایک مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے۔ اسی سلسلے میں 9 دسمبر 2023 کو RMDF کے زیر اہتمام قبائلی اضلاع میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف اور خواتین کو اسلام کی جانب سے دیے گئے حقوق کی پاسداری اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔

اس آگاہی سیشن کا بنیادی مقصد قبائلی علاقوں، بالخصوص وزیرستان کی خواتین کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا تھا کہ اسلام نے خواتین کو عزت، تحفظ اور مساوی حقوق عطا کیے ہیں، جن پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیشن میں خواتین، سماجی کارکنان، اساتذہ، نوجوانوں اور مقامی رہنماؤں نے شرکت کی اور صنفی انصاف، انسانی وقار اور سماجی ذمہ داری پر گفتگو کی گئی۔

قبائلی معاشرہ روایات اور ثقافتی اقدار سے بھرپور ہے، تاہم بعض اوقات انہی روایات کی غلط تشریحات خواتین کے حقوق کی پامالی کا سبب بن جاتی ہیں۔ RMDF نے اس سیشن کے ذریعے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اسلام عورت کو تعلیم، صحت، وراثت، روزگار اور باعزت زندگی کا مکمل حق دیتا ہے۔ مقررین نے واضح کیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر منافی ہے۔

سیشن کے دوران خواتین کو یہ باور کرایا گیا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جو انہیں بااختیار بنا سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت بھی کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات تک رسائی، محفوظ روزگار کے مواقع اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔

رضیہ محسود ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قبائلی اضلاع کی خواتین کے لیے تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری اور قانونی شعور کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ فاؤنڈیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ خواتین کے مسائل کا حل صرف قوانین بنانے سے ممکن نہیں بلکہ سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی لانا بھی بے حد ضروری ہے۔

یہ آگاہی سیشن نہ صرف خواتین کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک اہم پیغام تھا کہ عورت کا تحفظ، عزت اور حقوق کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہیں۔ جب تک خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جائیں گے، تب تک معاشرہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔

آخر میں شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے آگاہی پروگرامز سے قبائلی اضلاع میں شعور بیدار ہوگا اور خواتین کو ایک محفوظ، باوقار اور مساوی مقام حاصل ہوگا۔ رضیہ محسود ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیت صاف اور مقصد واضح ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔

قبائلی اضلاع کی خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی حقوق کا تحفظ دینا ہی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔

16DaysOfActivismAgainstGenderBasedViolence

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *