قصور کس کا؟ عورت کا یا معاشرے کی سوچ کا؟”

ہم اکثر سنتے آئے ہیں کہ خواتین کو گھر کی چار دیواری تک محدود رہنا چاہیے اور انہیں گھر سے باہر نکل کر کام کرنے یا کسی بھی شعبۂ زندگی میں کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ کوئی نئی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک ایسا رویہ ہے جو مختلف معاشروں، تہذیبوں اور مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی ادوار میں خواتین کو کمتر سمجھا گیا، ان کے حقوق محدود کیے گئے اور انہیں وہ مقام نہیں دیا گیا جو ایک انسان ہونے کے ناطے ان کا حق تھا۔
تاہم اسلام نے اس تصور کو یکسر بدل دیا۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں خواتین کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عزت و احترام کا وہ مقام دیا گیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اسلامی تاریخ ایسی عظیم خواتین کے کردار سے بھری پڑی ہے جنہوں نے تعلیم، تجارت، سماجی خدمت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
آج اگر ہم خاص طور پر قبائلی اضلاع کی خواتین کی بات کریں تو صورتحال ایک مختلف نوعیت کا چیلنج پیش کرتی ہے۔ جب کوئی خاتون باپردہ رہتے ہوئے معاشرے کی بہتری کے لیے میدان عمل میں قدم رکھتی ہے، تو اسے اکثر حقیقی حوصلہ افزائی کے بجائے غیر ضروری ذاتی دلچسپی، بے مقصد گفتگو اور نجی زندگی میں مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بدقسمتی سے معاشرے میں ایسے لوگ ہر طبقے میں موجود ہیں جو بظاہر عزت دار، تعلیم یافتہ اور باوقار نظر آتے ہیں، لیکن موقع ملتے ہی ان کی اصل سوچ سامنے آ جاتی ہے۔ بعض افراد یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک خاتون شادی شدہ ہے، باپردہ ہے اور سماجی خدمت میں مصروف ہے، اپنی دولت، عہدے، گاڑی، بنگلے یا دیگر ظاہری وسائل کے ذریعے اسے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد اکثر خیرخواہی نہیں بلکہ ذاتی مفاد ہوتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض خواتین اور لڑکیاں ایسے افراد کے فریب میں آ کر اپنی زندگی، عزت اور وقار کو نقصان پہنچا بیٹھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میں شعور، خود اعتمادی اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ ایسے لوگوں کی چالوں کو پہچان سکیں۔
دوسری طرف کچھ تنگ نظر لوگ فوراً یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چونکہ ایسے مسائل موجود ہیں، اس لیے خواتین کو گھر سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خواتین کو گھر بٹھا دینا مسئلے کا حل ہے؟ اگر معاشرے میں غلط رویے موجود ہیں تو ان کا خاتمہ ہونا چاہیے، نہ کہ خواتین کے راستے بند کیے جائیں۔
حقیقی حل یہ ہے کہ خواتین کو تعلیم، شعور اور اعتماد دیا جائے، ان کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا جائے، اور ایسے افراد کے خلاف سماجی سطح پر مزاحمت کی جائے جو خواتین کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ برائیوں سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا اور ان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہی معاشرے کی بہتری کا راستہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی بہتر تربیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ ایک مہذب معاشرہ صرف خواتین کی پابندیوں سے نہیں بلکہ مردوں کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور ذمہ داری کے احساس سے تشکیل پاتا ہے۔ خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں، اپنے وقار کو مقدم رکھیں اور کسی کی دولت، جائیداد یا عارضی چمک دمک سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کے اہم فیصلے نہ کریں۔
میرا پیغام تمام خواتین کے لیے یہ ہے کہ آپ تعلیم حاصل کریں، اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں، معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور ہر شعبے میں آگے بڑھیں۔ لیکن اپنی عزت، وقار اور خاندانی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ دنیا کو یہ ثابت کریں کہ ایک باوقار خاتون نہ صرف کام کر سکتی ہے بلکہ اپنی حدود، اپنی شناخت اور اپنی عزت کی حفاظت بھی کر سکتی ہے۔
خواتین معاشرے کا کمزور نہیں بلکہ مضبوط ستون ہیں، اور جب انہیں احترام، مواقع اور تحفظ ملتا ہے تو پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
رضیہ محسود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *