
تعارف
یہ ایک ایسی مسلمان بیٹی کی کہانی ہے جس نے اس زمانے میں ایٹمی سائنس میں نام پیدا کیا جب لڑکیوں کی تعلیم کو بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ (1917–1952) مصر کی مسلمان سائنسدان اور ملک کی پہلی خاتون ایٹمی سائنسدان تھیں۔ مصر میں انہیں محبت سے “ایٹمی توانائی کی ماں” کہا جاتا ہے۔
وہ مصر میں یونیورسٹی میں تدریسی عہدہ پانے والی پہلی خاتون تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ ایٹم کی طاقت تباہی کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے۔ ان کا خواب تھا کہ کینسر کا ایٹمی علاج “اسپرین کی طرح عام اور سستا” ہو جائے۔
صرف 35 برس کی عمر میں امریکہ میں ایک کار حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن سات دہائیوں بعد بھی ان کی کہانی دنیا بھر کی مسلمان بیٹیوں کو حوصلہ دیتی ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کی بیٹیوں کے لیے یہ کہانی ایک پیغام ہے: تعلیم یافتہ بیٹی پوری قوم کا سرمایہ ہوتی ہے۔
بچپن اور تعلیم
سمیرہ موسیٰ علی 3 مارچ 1917 کو مصر کے صوبے غربیہ کے گاؤں زفتی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد موسیٰ علی ایک معروف سیاسی کارکن تھے اور بیٹی کی تعلیم کے پکے حامی تھے۔
بچپن ہی میں انہیں ایک بڑا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ ان کی والدہ کینسر کی بیماری سے انتقال کر گئیں۔ یہی دکھ بعد میں ان کی زندگی کا مقصد بن گیا: کینسر کے خلاف جدوجہد۔
بیٹی کو بہتر تعلیم دلانے کے لیے والد اپنا گاؤں چھوڑ کر قاہرہ منتقل ہو گئے اور حسین کے علاقے میں ایک چھوٹا ہوٹل خریدا۔ سمیرہ نے قاہرہ کے قدیم ترین اسکولوں میں سے ایک “قصر الشوق” اور پھر “بنات الاشراف” سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔
وہ ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوئیں۔ وہ انجینئرنگ پڑھ سکتی تھیں جو اس وقت سب سے باوقار شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنس کا انتخاب کیا۔
یہاں ان کی ملاقات مشہور مصری ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر علی مصطفیٰ مشرفہ سے ہوئی، جو فیکلٹی کے پہلے ڈین تھے۔ انہوں نے سمیرہ کی صلاحیت کو پہچانا اور ان کی بھرپور سرپرستی کی۔ 1939 میں سمیرہ نے ریڈیالوجی میں فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تحقیق مختلف مادوں پر ایکس رے شعاعوں کے اثرات پر تھی۔
سائنسی سفر اور کارنامے
گریجویشن کے بعد سمیرہ موسیٰ قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنس میں تدریسی عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ یہ مصر میں کسی بھی خاتون کا پہلا یونیورسٹی عہدہ تھا۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ برطانیہ گئیں۔ 1948 میں انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے بیڈفورڈ کالج سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا مقالہ اس بات پر تھا کہ تابکار شعاعوں کی پیمائش کو کیسے درست اور محفوظ بنایا جائے۔ یوں وہ ایٹمی تابکاری میں پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی مصری بنیں۔
ان کے اہم کارنامے
- بین الاقوامی تحقیق: ان کے تحقیقی مقالے برطانوی جرنل آف ریڈیالوجی (1949) اور امریکی جرنل نیوکلیونکس (1952) میں شائع ہوئے۔
- ایٹم برائے امن: انہوں نے "ایٹمی توانائی برائے امن" کانفرنس منعقد کی اور دنیا کے ممتاز سائنسدانوں کو اکٹھا کرنے کی آواز اٹھائی۔ انہوں نے ایٹمی خطرات سے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی۔
- کینسر کا سستا علاج: والدہ کی یاد میں وہ کئی ہسپتالوں میں رضاکارانہ طور پر کینسر کے مریضوں کے علاج میں مدد کرتی رہیں۔
- سائنس عوام تک: انہوں نے ایٹمی توانائی اور تابکاری پر عام فہم مضامین لکھے تاکہ عام لوگ بھی سائنس سمجھ سکیں۔
"میری خواہش ہے کہ کینسر کا ایٹمی علاج اسپرین کی طرح عام اور سستا ہو۔" — ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ
بعض مقبول کہانیوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے تانبے جیسی سستی دھاتوں کے ایٹم توڑنے کی مساوات دریافت کی۔ اس دعوے کا کوئی مستند ثبوت نہیں ملتا، اس لیے ہم اسے شامل نہیں کر رہے۔
امریکہ کا سفر اور پراسرار موت
1950 کی دہائی کے اوائل میں انہیں ایٹمی تابکاری کی تحقیق کے لیے فلبرائٹ اسکالرشپ ملی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں تحقیق کی اور سینٹ لوئس کی واشنگٹن یونیورسٹی کے ملنکراڈٹ انسٹیٹیوٹ آف ریڈیالوجی میں کام کیا۔
انہیں امریکہ میں مستقل رہنے اور شہریت لینے کی پیشکشیں بھی ہوئیں۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا:
“میرا پیارا وطن مصر میرا انتظار کر رہا ہے۔”
افسوس کہ وہ وطن واپس نہ پہنچ سکیں۔ 15 اگست 1952 کو امریکی ریاست وائیومنگ میں شیریڈن کے قریب وہ ایک کار میں سفر کر رہی تھیں۔ کار امریکی فضائیہ کے ایک سویلین ملازم آرلنگ کریسلر چلا رہے تھے۔ کار بے قابو ہو کر ایک گہری کھائی میں جا گری اور دونوں موقع پر ہی جان بحق ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 برس تھی۔ مقامی حکام نے اسے حادثہ قرار دیا اور ان کی میت قاہرہ لائی گئی۔
چونکہ وہ کم عمری میں، پردیس میں اور ایٹمی سائنس پر کام کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئیں، اس لیے عرب دنیا میں بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا۔ بعض عرب ذرائع ابلاغ نے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں پر الزام لگایا۔ تاہم یہ الزامات کبھی ثابت نہیں ہوئے اور سرکاری ریکارڈ میں اسے حادثہ ہی لکھا گیا ہے۔ ان کی موت آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے ایک المناک معمہ ہے۔
اعزازات، ورثہ اور ہماری بیٹیوں کے لیے سبق
مصر نے اپنی اس بیٹی کو کبھی نہیں بھلایا۔ ان کے اہم اعزازات یہ ہیں:
- 1953: مصری فوج کی جانب سے اعزاز
- 1981: صدر انور السادات کی جانب سے نشانِ علوم و فنون (درجہ اول)
- بعد میں: قاہرہ یونیورسٹی کی ایک لیبارٹری اور ان کے گاؤں کا ایک اسکول ان کے نام سے منسوب
- بعد میں: مصری ٹی وی ڈرامہ "المخلدہ" میں ان کی زندگی پیش کی گئی
وزیرستان اور جنوبی خیبر پختونخوا کے لیے سبق
- باپ کا ساتھ سب کچھ بدل دیتا ہے۔ موسیٰ علی نے بیٹی کی تعلیم کے لیے گاؤں چھوڑ دیا۔ باپ اور بھائی ہی بیٹیوں کی تعلیم کے پہلے محافظ ہیں۔
- ذاتی دکھ انسانیت کی خدمت بن سکتا ہے۔ سمیرہ نے ماں کی موت کو کینسر کے خلاف زندگی بھر کی جدوجہد میں بدل دیا۔
- صلاحیت قوم کی امانت ہے۔ انہوں نے غیر ملکی شہریت ٹھکرا کر وطن کی خدمت کو ترجیح دی۔ وزیرستان کی تعلیم یافتہ بیٹیاں بھی پاکستان کا سرمایہ بن سکتی ہیں۔
- ایمان اور علم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے انہوں نے ثابت کیا کہ دین اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
- سائنس بیٹیوں کے لیے بھی ہے۔ 1939 میں ایک خاتون ماہرِ طبیعیات کا تصور بھی نہیں تھا۔ آج سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتیں ہماری بیٹیوں کے لیے وہی دروازے کھول سکتی ہیں۔
اختتامیہ
ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ کی زندگی مختصر تھی، مگر ان کا پیغام امر ہے: ایک پڑھی لکھی بیٹی پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ آج بھی وزیرستان اور جنوبی خیبر پختونخوا کی بہت سی بیٹیاں اسکول سے باہر ہیں۔ ان میں سے کوئی کل کی سمیرہ موسیٰ بن سکتی ہے، اگر اسے موقع ملے۔
آپ کی امداد سے ایک بیٹی کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
رضیہ محسود ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (RMDF) وزیرستان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بچیوں کی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں اور وظائف کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس مشن میں ہمارا ساتھ دیجیے:
- ہماری ویب سائٹ دیکھیں: www.rmdfpk.org
- عطیہ کریں / Donate: rmdfpk.org/donate
- اس بلاگ کو شیئر کریں تاکہ ہر گھر میں بیٹی کی تعلیم کا پیغام پہنچے
- رضاکار بنیں یا کسی بیٹی کی تعلیم کی سرپرستی کریں
بیٹی کو تعلیم دیں، قوم کو بدلیں۔
Educate a girl. Change a nation.
حوالہ: Sameera Moussa — Wikipedia (5 نومبر 2026 کو دیکھا گیا)


